ممبئی،7/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی)جے این یو میں طالب علموں کے ساتھ ہوئی مارپیٹ کی گونج ہندوستان سمیت دیگر ممالک سے بھی سنائی دے رہی ہے، لوگوں میں زبردست غم و غصہ ہے-جے این یو میں اے بی وی پی کے نقاب پوشوں کی حرکت کے خلاف پونے سے لے کر الہٰ آباد تک طالب علموں نے جم کر مظاہرہ کیا-جے این یو میں توڑ پھوڑ، ہنگامے اور تشدد کے خلاف ملک بھر میں طالب علم سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور جے این یو میں طالب علموں کے ساتھ ہوئے ظلم پر سوال اٹھا رہے ہیں -پونے کے فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ سے لے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، آئی آئی ٹی ممبئی اور جادھوپر یونیورسٹی کے طالب علموں نے جے این یو کی حمایت کی اور غنڈوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا-ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر بھی مختلف اداروں کے طلبہ نے دیر رات مظاہرہ شروع کیا جو اب بھی جاری ہے-دوسری جانب پوری دنیا کے50سے زائد معروف سوشیل سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم نے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں نقاب پوش طلبہ کے بہیمانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے اور وائس چانسلر اور رجسٹرار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے - برطانیہ، امریکہ، کناڈا، جاپان اور جنوبی افریقہ کی یونیورسٹیوں میں خدمات انجام دینے والے پروفیسروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے مذمت کی- ان میں آکسفورڈیونیورسٹی، ییلے یونیورسٹی، جان ہوپکِنس یونیورسٹی، نیویارک یونیورسٹی، ٹورنٹو یونیورسٹی، کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر شامل ہیں -بیان میں کہا گیا ہے کہ جے این یو ملک کی ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے اور گذشتہ کئی دنوں سے طلبہ فیس اضافے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں -دوسری جانب جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار نے گزشتہ شب یونیورسٹی کیمپس میں ہوئے تشدد کے آغاز کے پیچھے بائیں بازو طلباء کا ہاتھ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلباء کے سیمسٹر کے رجسٹریشن کے عمل میں خلل ڈالا جس کے بعد یہ تشدد بھڑکا - مسٹر کمار نے بائیں بازو طلباء کا نام لئے بغیر پیر کے روز ٹوئیٹ کرکے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلباء نے یونیورسٹی کے مواصلاتی نظام کو کاٹ کر موسم سرما آن لائن رجسٹریشن کے عمل کو ٹھپ کر دیا-
اس کے بعد انہوں نے تشدد شروع کی ا اور یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ بھی کی جس سے جھگڑے کی شروعات ہوئی-انہوں نے بھروسہ دلایا کہ طلباء کی حفاظت کی کوشش اور بیرونی عناصر کی روک تھام کی جائے گی - یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر تشدد کی جگہ نہیں بنایا جا سکتا - ہم طلباء کے ساتھ ہیں - غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ روز تشدد میں تقریباً 24 طلباء اور متعدد ٹیچرز زخمی ہوگئے تھے -